Saturday, March 26, 2016

کانوں کی خوشی

0 comments
ایک دفعہ ایک شاعر کسی بادشاہ کے دربار میں گیا اور اس کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا ، بادشاہ کو قصیدہ بہت پسند آیا ، اس نے حکم دیا کہ شاعر کو اس کے وزن کے برابر چاندی سے نوازا جاۓ ، شاعر نے ایک اور قصیدہ پڑھا ، بادشاہ نے پھر حکم دیا کہ اسے اس کے وزن کے برابر سونا دیا جاۓ ، اسی طرح شاعر قصیدہ گوئ کرتا رہا اور بادشاہ ، ہیرے ، جواہرات ، جاگیر وغیرہ کے انعام کا اعلان کرتا رہا۔ بالآخر شاعر کے قصائد ختم ہوۓ ، لیکن اس وقت تک بادشاہ بہت سے بیش قیمت انعامات اس کو دینے کا اعلان کر چکا تھا ، شاعر خوشی خوشی گھر گیا اور گھر والوں کو سب انعامات کے بارے میں بتایا۔ ایک دن گزرا ، دو گزرے ، تین گزرے لیکن شاعر تک انعامات نہ پہنچے ، شاعر بادشاہ کے پاس گیا اور اسے شکایت کی کہ آپ نے انعام دینے کا اعلان کیا لیکن دیے نہیں۔ بادشاہ نے جواب دیا : "تم نے ہمیں قصیدے سنا کر ہمارے کانوں کو خوش کیا ، ہم نے تمہیں انعامات دینے کا کہ کر تمہارے کانوں کو خوش کیا ، حساب برابر"
الیکشن کےدوران پاکستانی سیاستدانوں کے بڑے بڑے دعوے بھی کانوں کی خوشی سےزیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے