Wednesday, August 17, 2016

قربانی

0 comments
اگست 1947 کی ایک سوگوار شام تھی ، پندرہ سالہ احمد گھر میں داخل ہوا۔ اندرونی کمرے کی طرف بڑھتے ہوۓ اس نے گھر میں موجود غیرمعمولی خاموشی کو محسوس کرلیا تھا۔ چند دن سے ریڈیو سے نشر ہونے والی خبروں سے ظاہر ہورہا تھا کہ حالات کچھ خراب ہیں۔ احمد کا گھر گاؤں سے کچھ باہر کھیتوں کےدرمیان تھا۔

اندرونی کمرے کی طرف بڑھتے ہوۓ اس کے قدم اچانک رک گۓ ، اس نے مٹی کے فرش پہ خون کے دھبے دیکھ لیے تھے جو واضح طور پہ کسی لاش کو گھسیٹنے کے تھے۔ احمد پریشانی کے عالم میں کمرے میں داخل ہوا تو اس کی چیخ نکل گئی سامنے ہی اس کے والد اور والدہ کی لاشیں پڑی تھیں ، زخموں سے چور لاشیں دیکھ کر احمد کےحواس جواب دینے لگے وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور بےاختیار سسکیاں بھرنے لگا۔

اچانک اسے کہیں سے رونے کی ہلکی سی آواز آئی ، یہ اس کی ننھی بہن عائشہ تھی جو پچھلے کمرے میں رکھی بوریوں میں چھپ گئی تھی اور قاتلوں کو نظر نہ آئی تھی اس لیے بچ گئی۔ احمد جانتا تھا کہ ہندو بلوائی اب پورے علاقے میں پھیل چکے ہوں گے اور اسے اپنی اور عائشہ کی جان بچانی تھی۔ اس نے آنسو پونچھے اور بستر کی چادریں والدین کی لاشوں پہ ڈال دیں ، شہید والدین کی لاشوں کو اللہ کےحوالے کر کے وہ عائشہ کو گود میں اٹھا کر باہر نکلا اور گاؤں سے باہر سڑک کی جانب جانے والے راستے کی طرف بڑھ گیا۔

اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد درختوں کے ایک جھنڈ میں سے گزرتے ہوۓ اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے آرہا ہے۔ اس نے ہندو بلوائی سمجھا اور چھپنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن پیچھے دیکھنے پر اس کی پریشانی ختم ہوگئی جب اس نے اپنے پالتو کتے جیکی کو آتے دیکھا۔ جیکی گھر سے ہی اپنے مالک کے ساتھ ہولیا تھا۔ احمد اطمینان سے آگے بڑھنے لگا۔ کچھ دور جانے کے بعد اسے پیاس محسوس ہونے لگ گئی ، عائشہ بھی ہلکا ہلکا رو رہی تھی اسے شاید بھوک لگ رہی تھی۔ احمد نے پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو چند قدم دور ایک پانی کا کنواں نظر آگیا۔

اس نے ڈول میں سے پانی نکالا اور جونہی منہ سے لگا کر پینے لگا ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا۔ جیکی نے اچانک اس پہ چھلانگ لگائی اور پانی کا ڈول اس کے ہاتھ سے گرا دیا۔ احمد کو حیرت ہوئی کیونکہ جیکی نے پہلے کبھی ایسی حرکت نہیں کی تھی۔ خیر اس نے نظر انداز کرتے ہوۓ دوبارہ کنویں سے پانی نکالا اور پینے لگا لیکن جیکی نےدوبارہ وہی حرکت کی اور اس کے ہاتھ سے پانی گرادیا۔ اب کی بار احمد کو غصہ آیا اس نے ڈانٹ کر جیکی کو دور بھیجا اور ایک مرتبہ پھر کنویں سے پانی نکالنے کی کوشش کی۔ پانی نکال کر پینے لگا لیکن جیکی بھی ہوشیار تھا اس نے لمبی چھلانگ لگائی اور احمد کےہاتھ سے پانی گرادیا۔ اب کی بار اس نے پانی گرانے پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ گرے ہوۓ برتن میں جو پانی بچا تھا اسے پی لیا۔ پانی پیتے ہی وہ تڑپنے لگا اور چند لمحوں بعد جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

عزیزانِ من! یہ کہانی سنانے کا مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ اس وطنِ عزیز کی خاطر انسانوں نے ہی نہیں بلکہ جانوروں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس کی قدر کرنی ہے اور اپنی پوری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوۓ اس کی ترقی ، خوشحالی اور جس مقصد کےلیے یہ وطن حاصل کیا ہے اس مقصد کےحصول کےلیے کام کرنا ہے۔